اہلیت |
| : ایک معلم/معلمہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ |
نفسیات کے بنیادی اصولوں سے آگاہی رکھتے ہوں۔ ![]() |
جس شعبے میں تدریس کرنی ہو اس شعبے سے مناسب آشنائی رکھتے ہوں۔ |
علمی مہارت اور تجربہ رکھتے ہوں۔ |
شخصیت |
استار میں خود اعتمادی ہونی چاہیے۔ اسے احساس کمتری کا شکار یا شرمیلا نہیں ہونا چاہیے۔ |
اسے مضبوط قوت ارادی اور انتظامی صلاحیت کا مالک ہونا چاہیے۔ اس کے اندر کلاس کو چلانے کا دم خم ہونا چاہیے۔ |
اسے تواضع و فروتنی کا مظہر اور غرور و تکبر سے عاری ہونا چاہیے۔ ![]() |
اسے با اخلاق ہونا چاہیے۔ ![]() |
اسے تدریس سے عشق اور لگن ہونا چاہیے۔ |
اسے نظم و ضبط اور وعدے کا پابند ہونا چاہیے۔ ![]() |
اسے خیال رکھنا چاہیے کہ شاگرد استاد کو آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ ![]() |
اسے کو فصیح و بلیغ، قادر الکلام اور دلنشین آواز کا حامل ہونا چاہیے۔ ![]() |
طریقہ تدریس |
معلم/معلمہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ سلیبس پر عبور رکھتے ہوں، اس کے بارے میں ضروری معلومات رکھتے ہوں ![]() تاکہ وہ اچھی طرح سے پڑھا بھی سکیں اور سوالات کے جواب بھی دے سکیں۔ |
روزانہ پڑھانے سے پہلے مطالعہ اور پیشگی تیاری کریں اور درسی مواد تیار کریں۔ ![]() |
سبق کو خوب سمجھائیں یہاں تک کہ یقیں کرلیں کہ شاگردوں نے سبق کو سمجھ لیا ہے۔ ![]() |
گذ شتہ اسباق پر سرسری روشنی ذالیں اور سبق کے آخری بیان شدہ نکات کو دُھرا ئیں۔ ![]() |
شاگردوں سے سوال کریں۔ ![]() |
شاگردوں کو سوال کرنے کو مو قع دیں ![]() |
تدریسی وسائل و آلات (آڈیو، وڈیو) سے استفادہ کریں۔ ![]() |
| آخری تین نکات سے کلاس کا شوق و ولولہ بھی باقی رہتا ہے اور سمجھنے سمجھانے میں بھی مدد ملتی ہے نیز استاد اور شاگردوں کو غور و فکر کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ |
استاد کیلئے مفید باتین |
معلم/معلمہ کو چاہیے کہ لہجے ، آواز اور انداز بیان کی مشق کریں۔ ![]() |
روزانہ اس بات کی جائزہ رپوٹ تیار کریں کہ تدریس کتنی مفید رہی ہے اور شاگرد نے سبق کو کس قدر سمجھا ہے۔ ![]() |
کلاس کی بعض ذمہ داریاں شاگردوں کے حوالے کریں۔ ![]() |
معلم/معلمہ اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہیں اور مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ![]() |
تدریس کے نئے انداز اپنائیں۔ ![]() |
غیر محسوس اور بالواسطہ طریقوں سے کلاس کو کنٹرول کریں۔ ![]() |
کلاس کی ابتداء اس کے اختتام اور مقداردرس کے بارے میں وقت کا خیال رکھیں نیز بر وقت حاضر ہوں۔ ![]() |
ظاہری صفائی اور آراستگی کا خیال رکھیں۔ ![]() |
دیوار ، تختہ سیاہ اور میز کے ساتھ ٹیک نہ لگائیں۔ ![]() |
تسبیح،قلم،لباس اور دیگر چیزوں سے نہ کھلیں۔(چھیڑ چھاڑ نہ کریں) ![]() |
تختہ سیاہ، وائٹ بورڈ، چارٹ اور خاکہ وغیرہ سے استفادہ کریں۔ ![]() |
شاگردوں کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا تعمیری جذبہ پیدا کریں۔ ![]() |
شاگردوں کے ساتھ سلوک |
| مشہور قول ہے کہ اگر استاد کا درس مہر و محبت کا آئینہ دار ہو تو بھگوڑے بچے چھٹی کے دن بھی سکول آجائے گے۔ |
معقول حدود کے اندر رہ کر شاگردوں کے ساتھ خوشگوار مزاح کریں۔ ![]() |
کلاس میں اس طرح ہشاش بشاس رہیں کہ نہ کلاس پھیکی اور خشک ہو نہ ہنسی مذاق کی محفل میں تبدیل ہو جائے۔ |
صبر و تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کریں۔ ![]() |
شاگردوں کا شوقِ تعلیم بڑھایں اور اُن کے مثبت کاموں پر توجہ دیں۔ ![]() |
لوگوں کی موجودگی میں ان کی مثبت پہلوؤں کا ذکر کریں۔ ![]() |
شاگردوں کی شخصیت اور عزت نفس کا احترام کریں اور ان کو مقام دیں۔ ![]() |
انتقام یا ہٹ دھرمی کے بجائے عفو، درگذر اور مہربانی سے کال لیں۔ ![]() |
جذبات پر قابو رکھیں اور نفسیاتی تزلزل کا شکار نہ ہوں۔ ![]() |
شاگردوں کے ساتھ لگاؤ اور خلوص کا ثبوت دے، ان کو نزدیک سے پہچانیں، ان کے نام اور انکی ذاتی خصوصیات ![]() |
سے آگاہ رہیں ، ان کی مدد کریں، ان کے ساتھ ہمدردی و تعاون کا مظاہرہ کریں، ان کے ہم راز رہیں، اور ان کو صحیح |
| مشورہ دیں۔ |
سوال کرنے، سوالوں کا جواب دینے، نمبر دینے، نگاہ کرنے اور توجہ دینے نیز ہوم ورک وغیرہ کے معاملے میں سب ![]() |
کے ساتھ یکساں اور عادلانہ سلوک کریں۔ | ،شہوت کے مقابلے میں پاکدامنی، غیظ و غضب کے مقابلے میں صبر اور حوصلہ اور غرور و تکبر کے مقابلے میں ![]() |
| تواضع غلطی کے اعتراف اور اپنی لا علمی کے اقرار کی روش اپنا کر نفس پر کنٹرول کا ثبوت دیں۔ |
کمزور طالب علموں کے اندر اعتماد پیدا کریں۔ ![]() |
کلاس کی بہتر کار کردگی کیلئے تدابیر |
| خوش اسلوبی سے کلاس چلانے کے لیے معلم/معلمہ کو درج ذیل امور کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ منظم انداز میں بہتر کار کردگی اور بہتر طریقے سے سیکھنے کا ماحول فراہم ہو سکے۔ |
شاگردوں کی تعداد اتنی ہو کہ بآسانی ہر ایک پر انفرادی توجہ دی جا سکے۔ ![]() |
تعلیمی و سائل ہر طالبعلم کو میّسر ہوں۔ ![]() |
درس، شاگردوں کی فکری سطح کے مطابق ہوں۔ ![]() |
اسکول یا مکتب کی عام ضروریات میّسر ہوں۔ ![]() |
نصاب اور معاشرتی مسائل میں مطابقت ہو۔ ![]() |
تختہ سیاہ/وائٹ بورڈ کا استعمال |
| تدریس کے لئے چاک اور تختہ ساہ یا وائٹ بورڈ اور مارکر ، کے استعمال میں بہت سارے فوائد پوشیدہ ہیں مثلاََ |
اس سے سبق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔(دیکھ کر اور سن کر) ![]() |
لکھنے نیز الفاظ و مضامین لکھنے میں مدد ملتی ہے۔(Notes)طالب علموں کو نوٹس ![]() |
معلم/معلمہ اپنی معلومات بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ ![]() |
دیر سے پہنچنے والوں کو زیر موضوع سبق کا علم ہو جاتا ہے۔ ![]() |
خود معلم/معلمہ بھی آگاہ رہتے ہیں کہ اس نے کیا کہا ہے اور کہاں تک گفتگوکی ہے۔ ![]() |
تختہ سیاہ/وائٹ بورڈ کے استعمال سے متعلق چند مفید نکات |
معلم/معلمہ کو چاہیے کہ سبق کے عنوان کو تختہ سیاہ کے دائیں طرف اوپر کی جانب لکھے اور آخر تک نہ مٹائے۔ ![]() |
تختہ سیاہ اور چاک یا وائٹ بورڈ اور مارکر کو صاف اور عمدہ ہونا چاہیے اور سائز بھی مناسب ہونا چاہیے۔ ![]() |
صفائی ہمیشہ اوپر سے نیجے کی جانب کریں۔ ![]() |
صفائی کیلئے ہاتھ یا لباس ہر گز استعمال نہ کریں۔ ![]() |
خوشخط اور واضح لکھیں۔ ![]() |
لکھنے پر عبور حاصل ہو اور لکھنے میں دیر نہ لگائیں۔ ![]() |
طالب علموں کی طرف پشت نہ کریں بلکہ ایک جانب کھڑے ہو کر لکھیں۔ ![]() |
بورڈ سب کے سامنے ہو تاکہ دور، نزدیک یا نیچے سے دیکھنے والوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ ![]() |
روشنی |
| کلاس میں روشنی اور اس کی مطلوبہ مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ |
روشنی نہ بہت کم ہو اور نہ بہت زیادہ جو تکلیف دہ ہو۔ ![]() |
سورج یا تیز بلب کی روشنی طالب علموں یا استاد کی آنکھوں میں براہ راست نہ پڑے۔ ![]() |
تختہ سیاہ یا وائٹ بورڈ پر سایہ پڑنا یا اس کا چمکنا توجہ کو منتشر کر دیتا ہے۔ ![]() |
حرارت |
| زیادہ سردی یا زیادہ گرمی طالب علموں کی توجہ درس پر مرکوز ہونے نہیں دیتی۔ درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ کا ہو تو مناسب ہے۔ کلاس کے درجہ حرارت پر توجہ دینا ضروری ہے۔ |
ہوا |
| کبھی غیر مناسب ہوا طالب علموں کو پریشان کر دیتی ہے۔ کھڑکی کھولنے، پنکھا وغیرہ چلانے اور کھلی فضا میں کلاس لیتے وقت ہوا کی رفتار پر توجہ رکھنی چاہیے۔ |
بیٹھنے کا انداز |
| طالب علموں کے بیٹھنے کا انداز اور ترتیب کا یوں خیال رکھا جائے کہ استاد کی آواز سب تک پہنچے اور وہ ان سب کو بآسانی دیکھ سکے۔ |
تدریسی عمل پر منفی اثرات ڈالنے والے عوامل |
| اب تک جن نکات کا ہم ذکر کر چکے ہیں ان سے فن تدریس اور مثب پہلو خود بخود واضح ہو جاتے ہیں لیکن اگر ایک باقاعدہ اور منظم فہرست کی شکل میں چھوٹے چھوٹے موضوعات کو بھی بیان کردیا جائے تو ان کو بہتر سمجھا جاسکتا ہے اور ان سے عملی استفادہ ہو سکتا ہے۔ ان مثبت اور منفی نکات کا ذکر درج ذیل عنوانات کے تحت کیا جا سکتا ہے۔ |
| استاد کے درج ذیل حرکات سے تدریسی عمل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ |
ضرورت سے زیادہ سخت یا مدہم آواز۔ نیز آواز کی بریدگی اور یکسانیت۔ ![]() |
آمرانہ گفتگو اور حرکات نیز مصنوعی حرکات مصنوعی، مسکراہٹ اور مصنوعی قہقہہ یا مہر و محبت اور لطافت سے ![]() عاری قہقہہ۔ |
تھکا ہارا، بے کیف، بے جان اور یکسانیت سے لبریز انداز بیان۔ ![]() |
اترا ہوا چہرہ۔ ![]() |
چہرے اور لباس کی گندگی یا آشفتہ حالی۔ ![]() |
گفتگو کا ایسا انداز اختیار کرنا گویا کوئی تحریر پڑھی جا رہی ہو۔ ![]() |
انگلی سے ناک صاف کرنا۔ ![]() |
پڑھاتے وقت ہاتھوں سے چاک۔ تسبیح اور دیگر اشیاء کو چھیڑتے رہتا۔ ![]() |
کتاب پڑھتے یا پڑھاتے وقت ہاتھوں اور بدن کو زیادہ ہلاتا یا چلنا پھرنا۔ ![]() |
کسی خاص چیز کو تکیہ کلام بنانا اور بار بار دہرانا۔ ![]() |
کسی بات کو سمجھانے کے لئے چیخنا۔ ![]() |
مصنوعی خوش اخلاقی کا اظہار لیکن اچانک غصبناک ہو جانا۔ ![]() |
بات کرتے وقت میز اور بینچ وغیرہ سے تکیہ لگانا اور میز پر بیٹھنا۔ ![]() |
اپنے اندر دلی پریشانی کا مختلف ذریعوں سے اظہار کرنا مثلاََ کھانسی کے ذریعے یا لعاب دہن نگلنے کے ذریعے۔ ![]() |
| تدریس کے دوران استعمال ہونے والی اشیاء درج ذیل بدتمیزی کے تدریسی عمل پر منفی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔ |
کلاس روم میں گندگی بھیلانا۔ ![]() |
میز پر چیزوں کا بکھرا ہوا ہونا۔ ![]() |
طلبا کے ساتھ تندی کرنا اور ان کی طرف چیزوں کو پھیکنا۔ ![]() |
طالب علم سے کسی چیز کو تندی کے ساتھ لینا۔ ![]() |
بورڈ کا غیر مناسب استعمال۔ ![]() |
کلاس شروع کرنے سے قبل بورڈ کو صاف نہ کرنا۔ ![]() |
بورڈ کو ہاتھ یا انگلیوں سے صاف کرنا۔ ![]() |
کلاس کی روشنی ، ہوا، حرارت اور صفائی کا خیال نہ رکھنا۔ ![]() |
بورڈ پر اسقدر باریک لکھنا کہ جسے پڑھنا ممکن نہ ہو۔ ![]() |
ایسا چاک استعمال کرنا جو بورڈ کے رنگ سے مناسبت نہ رکھتا ہو۔ ![]() |
بورڈ اور دیگر تدریسی و سائل پر شاگردوں کی نگاہ کا خیال نہ رکھنا۔ ![]() |
مسلسل تحریری یاد داشت کا سہارا لینا۔ ![]() |
| تدریس کے دوران شاگردوں کے ساتھ درج ذیل سلوک روارکھنے سے تدریسی عمل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ |
شرمیلا پن ، غرور و تکبر اور شیخی بگھارنا۔ ![]() |
غیر مخلصانہ سلوک جو بے اعتمادی کا باعث ہو۔ ![]() |
شاگردوں کی تعداد میں بتدریج کمی (سکول ٹائم کے آخر تک)۔ ![]() |
اخلاق اور آداب کے منافی الفاظ کا استعمال۔ ![]() |
شاگردوں کے طرز عمل پر فوری ناراضگی۔ ![]() |
اپنے آپ کو شاگردوں کے ہاتھوں کھلونا بنانا۔ ![]() |
شاگردوں کو دیر تک بورڈ کے آگے ٹھہرانا۔ ![]() |
طالب علم کی حد سے زیادہ تعریف۔ ![]() |
چند طالب علموں کی طرف نگاہ کرنا۔ ![]() |
چند خاص شاگردوں پر توجہ کرنا۔ ![]() |
ایک حکم دینا اور اس پر عمل سے پہلے دوسرا حکم دینا۔ ![]() |
دو متضادم احکام جاری کرنا۔ ![]() |
ہٹ دھرمی اور اپنی بات پر اڑ جانا۔ ![]() |
ہاتھ وغیرہ کے اشاروں سے طلبا کی اہانت۔ ![]() |
جرأت کا فقدان۔ ![]() |
طلبا کے کاموں میں حد سے زیادہ مداخلت۔ ![]() |
پوری کلاس ٹائم کے دوران طلباء سے مکمل طور پر ساکت اور بے حس و حرکت رہنے کی توقع رکھنا۔ ![]() |
شاگردوں کو خاموش کرنے کے لئے بار بار’’خاموش‘‘ یا’’چپ‘‘ وغیرہ کہنا۔ ![]() |
دورانِ تدریس درج ذیل طریقہ کار اپنانے سے تدریسی عمل پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔ ![]() |
شاگرد کے سوال پر جواب کا حد سے زیادہ تکرار۔ ![]() |
سوال کرتے وقت شاگردوں کے نزدیک ہونا۔ ![]() |
شاگردوں کی بجائے اپنے سوال کا جواب خود دینا۔ ![]() |
سب سے پوچھنے کے بجائے کسی طالب علم سے انفرادی سوال کرنا۔ ![]() |
پوری کلاس سے جواب پوچھنا جس سے شوراٹھے اور کچھ سمجھ میں نہ آئے۔ ![]() |
شاگردوں کو مختلف سوالوں سے پریشان کرنا۔ ![]() |
شاگردوں کو جواب دینے کے لئے سوچنے کا موقع نہ دینا۔ ![]() |
اس وقت سوال کرنا جب شاگرد لکھنے میں مشغول ہوں۔ ![]() |
طالب علموں کے سوالات کا اطمینان بخش جواب نہ دینا۔ ![]() |
سوال کرنے کے خواہشمند طالب علم کو خاموش رہنے کا حکم دینا یا اس کے سوال کا جواب نہ دینا۔ ![]() |
ایسا سوال کرنا جس سے طلباء کا واسطہ نہ ہو۔ ![]() |
| ان کے علاوہ درج ذیل باتیں تدریس عمل پر منفی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ |
ایک ہی نوعیت کے کام کا تکرار اور تنوع کا فقدان۔ ![]() |
طالب علم کی ذہنی صلاحیت کے مطابق درسی نکات کو ترتیب نہ دینا۔ ![]() |
جدید نکات کی وضاحت میں جلد بازی۔ ![]() |
وقت کا پیشگی اندازہ نہ کرنا۔ ![]() |
بحث و تنقید کے بغیر کتابی مواد کو دہرانا۔ ![]() |
طالب علم کی سابقہ معلومات کو جانچے بغیر درس شروع کرنا۔ ![]() |
سوال سے پہلے ناقص مشق۔ ![]() |
طالب علموں کو مبہم حکم دینا۔ ![]() |
شاگردوں کے ساتھ معنوی رابطے کے بغیر درس شروع کرنا۔ ![]() |
درس کی کثرت تکرار سے شاگردوں کو تھکانا۔ ![]() |
ایک ایسی چیز کی دوبارہ تدریس جسے سب جانتے ہوں۔ ![]() |
کلاس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے جذبے اور درسی شوق و شغف کے فقدان کے باعث پیدا ہونے والا پیکاپن۔ ![]() |
الفاظ کے درست تلفظ اور کلمات و اصطلاحات کے معانی کی شناخت پر عدم اطمینان۔ ![]() |
تدریسی عمل پر مثبت اثرات ڈالنے والے عوامل |
| استاد کی درج ذیل حرکات سے تدریسی عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ |
کلاس میں ہشاش بشاش رہنا اور شاگردوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ ![]() |
قوت عمل اور کار کردگی کا مظاہرہ۔ ![]() |
صبر اور حوصلے کا ثبوت دینا۔ ![]() |
طالب علموں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بروقت سکوت۔ ![]() |
دوستانہ، مخلصانہ اور حقیقی لہجہ۔ ![]() |
شکل و صورت اور لباس کی صفائی۔ ![]() |
پر لطف مثالوں اور مناسب خوش گپیوں سے استفادہ۔ ![]() |
| تدریس کے دوران استعمال ہونے والی اشیاء ٹھیک استعمال سے تدریسی عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں مثلاََ |
بورڈ کا باقاعدہ ٹھیک ٹھیک استعمال۔ ![]() |
بورڈ پر چارٹ اور تصاویر بنانا۔ ![]() |
ڈرائینگ، کارٹون بنانے اور خاکہ بنانے پر عبور نہ رکھنے کے باوجود بورڈ کے استعمال سے نہ گھبرانا۔ ![]() |
وسائل و اسباب کو تیار رکھنا اور ان کا صحیح استعمال۔ ![]() |
طلباء میں تقسیم کے لئے چھاپ شدہ یا کاپی شدہ مواد سے استفادہ۔ ![]() |
| شاگردوں کے ساتھ درج ذیل سلوک اپنانے سے خوشگوار تاثر بر قرار رہتا ہے جس سے تدریسی عمل نتیجہ خیز اور موثر ثابت ہوتا ہے۔ مثلاََ |
شاگردوں کو سوچنے کا موقع دینا۔ ![]() |
کلاس میں دوستانہ ماحول پیدا کرنا۔ ![]() |
اچھے انداز بیان اورصحیح تلفظ کی ترغیب و تشویق۔ ![]() |
حق گوئی اور شجاعت کی ترغیب۔ ![]() |
شاگرددوں کو کلاس کی ذمہ داریوں میں حصّہ دار بنانے کی کوشش۔ ![]() |
شاگردوں کے تعاون کی قدر دانی ![]() |
شاگردوں کے درمیان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا تعمیری جذبہ پیدا کرنا۔ ![]() |
غلطی کرنے پر طالب علم کی شخصیت کو ٹھیس پہنچائے بغیر اس کے خلاف سنجیدہ کاروائی۔ ![]() |
شاگرد کی عزت نفس، شخصیت کا احترام اور ادب و آداب ملحوظ خاطر رکھنا۔ ![]() |
کلاس کے اندر دلچسپی اور ولولہ پیدا کرنا۔ ![]() |
| ان کے علاوہ درج ذیل طریقوں سے درسی و تدریس کا عمل دلچسپ و خوبصورت بن جاتا ہے۔ |
نظام الاوقات کی پابندی اور وقت کی پابندی۔ ![]() |
کلاس کا دلکش اور خوبصورت آغاز۔ ![]() |
موجودہ سبق کی کڑیوں کو گذشتہ اسباق سے ملانا۔ ![]() |
کلاس میں چل پھر کر شاگردوں کی تحریروں پر نظر ڈالنا۔ ![]() |
طالب علموں کی رہنمائی کے لئے سوالوں کی شکل و صورت کو تبدیل کرنا۔ ![]() |
سبق سے مربوط مختلف قسم کے سوالات کرنا۔ ![]() |
شاگردوں کو سوال کرنے کی ترغیب دینا۔ ![]() |
(بڑھتا ہے IQ level اس سے) شاگردوں کی ذہنی آزمائش کے لئے مغالطہ آمیز سوالات کرنا۔ ![]() |
شاگردوں کے ذوق کی پہچان۔ ![]() |
تدریسی عمل شروع کرنے سے پہلے طالب علموں کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لینا۔ ![]() |
ہر پیریڈ کا اختتام اچھے اور پسندیدہ طریقے سے کرنا۔ ![]() |
طالب علم کی شناخت |
| معلم/معلمہ کے لئے طالب علم کی شناخت اہمیت کی حامل ہے تاکہ وہ تدریسی کیفیت اور اپنے طرز عمل کو اس کے مطابق ڈھالے۔ بالخصوص جب مختلف قسم کے افراد کی جماعت کو پڑھانا مقصود ہو۔ طالب علم کی شناخت کے درج ذیل محور ہو سکتے ہیں۔ |
وہ کون ہے؟ ![]() |
اس کا مقصد کیا ہے۔ ![]() |
معاشرے کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ ![]() |
اسے کونسی چیز سکھانے کی ضرورت ہے؟ ![]() |
مطلوبہ مقصد تک رسائی کی قوی امید۔ ![]() |
| شاگردوں کی شناخت کے سلسلے میں درج ذیل نکات کو مدّ نظر رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔ |
فکری اور نفسیاتی لحاظ سے طالب علموں کا مختلف ہونا۔ ![]() |
فکری قوت اور صلاحیتوں میں تفاوت۔ ![]() |
آمادگی اور ساز گاری۔ ![]() |
حافظ اور قوت ادراک۔ ![]() |
گھریلو اور فکری مسائل۔ ![]() |
جسمانی حالت۔ ![]() |
لڑکی اور لڑکے میں فرق۔ ![]() |
اچھا طالب علم کون؟ |
| اچھے طالب علم ایک طرف کلاس کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مفید ہوتے ہیں اور دوسری طرف اچھے طالبعلم کو شناخت کر کے انہیں ان کی قابلیت کے حساب سے ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان پر توجہ دینے میں آسان ہوتی ہے۔ |
| اچھے طالب علم کی خصوصیات یہ ہیں۔ |
درسی نکات کے بارے میں تجسس اور غور و فکر کا جذبہ۔ ![]() |
خود اعتمادی۔ ![]() |
وقت شناسی۔ ![]() |
مؤدب اور سنجیدہ ہونا۔ ![]() |
دوٹوک اور بے باک انداز گفتگو۔ ![]() |
کلاس میں نظم و ضبط کی پابندی۔ ![]() |
مضبوط حافظہ۔ ![]() |
استدلال کی صلاحیت۔ ![]() |
تعلیمی ادارے کی ذمہ دار افراد اور والدین کی اطاعت۔ ![]() |
قواعد و ضوابط کی پابندی۔ ![]() |
غرور و تکبر سے پرہیز۔ ![]() |
مطالعہ کی عادت۔ ![]() |
سبق کا پیشگی مطالعہ اور مشکل نکات کو نوٹ کرنا۔ ![]() |
حوصلہ افزائی اور تشویق |
| حوصلہ افزائی ار تشویق و ترغیب کے ساتھ ساتھ تنبیہ و سرزنش اور سزا سے مربوط مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ تدریسی امور میں حوصلہ افزائی کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے لہذا اس پر بیشتر توجہ دی جاتی ہے۔ |
حوصلہ افزائی انسان کے اندر موجود حُبِّ ذات کے جذبے سے استفادہ کرنے کا نام ہے۔ یہ جذبہ ہر انسان کے اندر ![]() پایا جاتا ہے۔ |
کوئی شخص بھی تشویق سے بے نیاز نہیں ہے یہاں تک کہ لفظی حوصلہ افزائی کے بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ![]() یہ ضروری نہیں کہ حوصلہ افزائی ہمیشہ مالی مادی لحاظ سے ہو۔ |
چھوٹے اور کم عمر افراد کو بڑوں سے زیادہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ![]() |
درسی لحاظ سے کمزور اور سست افراد کو محنتی اور ہوشیار افراد کی بہ نسبت تشویق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ![]() |
جس کام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اسے تقویت حاصل ہو جائے گی خواہ وہ کام اچھا ہو یا بُرا۔ ![]() |
| اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی اچھی صفات مثلاََ ڈسپلن، خوشخطی، پڑھائی میں محنت وقت کی پابندی اور صفائی وغیرہ کی تشویق ہوتی ہے۔ :اس سلسلے میں امام علیؑ کا یہ فرمان بہت ہی دلچس ہے |
![]() |
| کہیں ایسا نہ ہو کہ نیکو کار اور بد کار تمہاری نظر میں یکساں ہوں۔ کیونکہ یہ کام نیک کاموں سے نیکوکاروں کی بے رغبتی میں بدکاروں کی تقویت کا باعث ہے۔ ان(کے اچھے اعمال) کی تعریف کرتے رہو۔ کیونکہ ان کے اچھے کاموں کے ذکر کی کثرت بہادر انسان میں جنبش پیدا کرتی ہے اور سست انسان کو ترغیب دیتی ہے۔ |
حوصلہ افزائی کے اثرات |
| حوصلہ افزائی شاگردوں کے اندر خود اعتمادی اور جذبہ عمل کو جنم دیتی ہے اور استاد کی محبوبیت میں اضافہ کرتی ہے۔ نیز شاگردوں کو استاد کا قدر شناس بناتی ہے۔ |
حوصلہ افزائی کے بارے میں ضروری ہدایات |
حوصلہ افزائی بجا اور ضرورت کے مطابق ہو کیونکہ ضرورت سے زیادہ، ضرورت سے کم یا بے جا حوصلہ افزائی سے ![]() نقصان ہوتا ہے۔ |
حوصلہ افزائی کام کے مطابق ہونی چاہیے کیونکہ کام سے زیادہ تعریف ہو تو چا پلوسی اور اگر اس سے کم ہو تو یہ حسد کی ![]() علامت ہے۔ |
اچھے کام کی حوصلہ افزائی فوراََ ہونی جاہیے۔ ![]() |
حوصلہ افزائی میں تاخیر سے اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ ![]() |
حوصلہ افزائی کبھی کبھی ہونی چاہیے ہمیشہ نہیں کیونکہ دائمی حوصلہ افزائی سے اس کی تاثیر اور جاذبیت کم ہو جاتی ہے۔ ![]() |
| مذکورہ بالا نکات کو تنبیہ اور سزا کے معاملے میں بھی مدّنظر رکھنا چاہیے۔ |
حوصلہ افزائی کے طریقے |
نقد انعام یا کتابوں اور اشیاء کی صورت میں حوصلہ افزائی۔ ![]() |
زبانی حوصلہ افزائی مثلاََ بہت اچھے، کہنا وغیرہ۔ ![]() |
غیر لفظی حوصلہ افزائی: مثلاََ مسکرانا، خوشنودی کے طور پر بلانا اور الفت آمیز نگاہ ڈالنا وغیرہ۔ ![]() |
صوتی حوصلہ افزاوی مثلاََ آھا، ہاں، اور ہود، وغیرہ کہنا۔ ![]() |
| بعض طالب علم شر میلے ہوتے ہیں اور دوسروں کے سامنے حوصلہ افزائی سے ناخوش ہوتے ہیں۔ ایسے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے غیر لفظی تشویق زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ |

